Back to Top
  • INNOVATIVE IDEAS TO AMPLIFY FEEL AND LOOK OF YOUR OFFICE

  • UTILIZE YOUR SPACE WITH THE RIGHT FURNITURE ARRANGEMENT

  • BEST DESIGN TO ENHANCE THE AMBIANCE OF EVERY ROOM

مجھے اچھا لگتا ہے


مجھے اچھا لگتا ہے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب کہیں باہر جاتے ہوئے وہ مجھ سے کہتا ہے "رکو! میں تمہیں لے جاتا ہوں یا میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں"۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھ سے ایک قدم آگے چلتا ہے۔ غیر محفوظ اور خطرناک راستے پر اسکے پیچھے پیچھے اسکے چھوڑے ہوئے قدموں کے نشان پر چلتے ہوئے احساس ہوتا ہے اس نے میرے خیال سے قدرے ہموار راستے کا انتخاب کیا۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب گہرائی سے اوپر چڑھتے اور اونچائی سے ڈھلان کی طرف جاتے ہوئے وہ مڑ مڑ کر مجھے چڑھنے اور اترنے میں مدد دینے کے بار بار اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب کسی سفر پر جاتے اور واپس آتے ہوئے سامان کا سارا بوجھ وہ اپنے دونوں کاندھوں اور سر پر بنا درخواست کیے خود ہی بڑھ کر اٹھا لیتا ہے۔ اور اکثر وزنی چیزوں کو دوسری جگہ منتقل کرتے وقت اسکا یہ کہنا کہ "تم چھوڑ دو یہ میرا کام ہے"۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ میری وجہ سے شدید موسم میں سواری کا انتظار کرنے کے لیے نسبتاً سایہ دار اور محفوظ مقام کا انتخاب کرتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے ضرورت کی ہر چیز گھر پر ہی مہیا کر دیتا ہے تاکہ مجھے گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ باہر جانے کی دقت نہ اٹھانی پڑے اور لوگوں کے نامناسب رویوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب رات کی خنکی میں میرے ساتھ آسمان پر تارے گنتے ہوئے وہ مجھے ٹھنڈ لگ جانے کے ڈر سے اپنا کوٹ اتار کر میرے شانوں پر ڈال دیتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے میرے سارے غم آنسوؤں میں بہانے کے لیے اپنا مظبوط کاندھا پیش کرتا ہے اور ہر قدم پر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلاتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ بدترین حالات میں مجھے اپنی متاعِ حیات مان کر تحفظ دینے کے لیے میرے آگے ڈھال کی طرح کھڑا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے "ڈرو مت میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا"۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے غیر نظروں سے محفوظ رہنے کے لئے نصیحت کرتا ہے اور اپنا حق جتاتے ہوئے کہتا ہے کہ "تم صرف میری ہو"۔
لیکن افسوس ہم سے اکثر لڑکیاں ان تمام خوشگوار احساسات کو محض مرد سے برابری کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے کھو دیتی ہیں۔
شاید سفید گھوڑے پر سوار شہزادوں نے آنا اسی لئے چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہم نے خود کو مصنوعات کی طرح انتخاب کے لیے بازاروں میں پیش کر دیا ہے۔
پھر۔۔۔۔۔۔۔۔
*جب مرد یہ مان لیتا ہے کہ عورت اس سے کم نہیں تب وہ اسکی مدد کے لیے ہاتھ بڑھانا چھوڑ دیتا ہے۔ تب ایسے خوبصورت لمحات ایک ایک کر کے زندگی سے نفی ہوتے چلے جاتے ہیں، اور پھر زندگی بے رنگ اور بدمزہ ہو کر اپنا توازن کھو دیتی ہے*.
مقابلہ بازی کی اس دوڑ سے نکل کر اپنی زندگی کے ایسے لطیف لمحات کا اثاثہ محفوظ کر لیجیے۔

ٹوپی روڑٹریفک حادثہ


آج صبح کامرس کالج بامخیل بائی پاس چوک (ٹوپی روڑ) پر گونمنٹ گرلز کالج مانیری کے کوسٹر اور رکشہ کے درمیان تصادم کے نتیجے میں رکشہ ڈرائیور سمیت 4 افراد بری طرح سے زخمی ہوگئے۔
حادثے کے فورا بعد زخمیوں کو ڈی ایچ کیو صوابی پہنچا دیا گیا۔

گمان ۔ ۔ ۔ ایک شوہر کے شک کی کہانی


عمارہ جلدی کرو! ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔ ہال دس بجے بند ہو جاتے ہیں آج کل اور تمھارا میک اپ ختم نہیں ہو رہا۔‘‘ زاہد صاحب جھنجھلاتے ہوئے بولے۔
’’جی بس ! ابھی آئی! ‘‘ عمارہ نے کوئی تیسری بار کہا۔ وہ اس وقت ڈریسنگ روم میں میک اپ کو فائنل ٹچ دے رہی تھی۔
’’ٹوں ٹوں! ‘‘ اتنے میں عمارہ کا موبائل بج اٹھا۔
’’عمارہ تمھارا موبائل۔۔‘‘ زاہد صاحب نے سائیڈ ٹیبل پر پڑ ا موبائل اٹھایا اور ڈریسنگ روم میں جانے لگے۔
’’آپ پڑھ لیں ناں۔ امی کا ہوگامیسج۔‘‘ عمارہ دوپٹے کوپنوں سے سیٹ کرتی ہوئی بولی تو زاہد صاحب میسج کھول کر پڑھنے لگے۔

’’Love You Ammarah! I miss You so much. Nabeel.‘‘

’’عمارہ!‘‘ زاہد صاحب کے لہجے میں نہ جانے کیا کیا تھا کہ عمارہ کے ہاتھ جہاں تھے وہیں رک گئے۔
نبیل عمارہ کا تایا زاد کزن تھا اورشادی کے بعد ان دنوں نیا نیا دبئی آیا تھا۔ اتفاق سے اس کی بیوی کی نام بھی عمارہ تھا۔ دبئی سے ریگولر نمبر پر کال اور میسج بہت مہنگے پڑتے تھے سو کسی دوست کے کہنے پر نبیل نے انٹرنیٹ میسج سروس کا سہارا لے لیا۔
اس دن اس نے میسجنگ ویب سائٹ میں پہلے عمارہ کا نمبر لکھا اور پھر میسج لکھ کر سینڈ پر کلک کر دیا۔ بعد میں نمبر دوبارہ چیک کیا تو پتہ لگا وہ اپنی بیوی عمارہ کی بجائے اپنی شادی شدہ کزن عمارہ کو سینڈ کر چکا ہے۔ 
دونوں نام ایک جیسے تھے سو نمبرز آگے پیچھے ہی save تھے۔ 
"زاہد بھائی! آپ مجھے غلط مت سمجھیں۔ میں اپنی بیوی کو میسج کر رہا تھا۔ غلطی سے عمارہ بہن کو چلا گیا۔ آپ کو جو ذہنی تکلیف پہنچی میں اس کے لیے معافی مانگتا ہوں۔" 
نبیل بارہا کال کر کے معذرت کر چکا تھا لیکن زاہد صاحب کے دل میں جو شک اور غلط فہمی کا بیج بویا جا چکا تھا وہ نہ نکل سکا۔ پھر انہیں یہ بات بھی اچھی طرح معلوم تھی کہ پہلے عمارہ کا رشتہ نبیل سے ہی ہونے جا رہا تھا لیکن اس وقت نبیل کی بے روزگاری کی وجہ سے بات آگے نہ بڑھ سکی۔ یہ سب باتیں سوچ سوچ کر زاہد صاحب نے دل میں شک کے بیج کو تناور درخت بنا لیا تھا۔
’’اچھا بیٹے ۔ میں فون بند کرتا ہوں۔ آپ نے ضرور آنا ہے عید کے پہلے دن۔ ‘‘ یہ زاہد صاحب کے سسر تھے اورعید کی دعوت دے رہے تھے۔
’’جی انکل! ضرور۔ اللہ حافظ!‘‘
’’ہونہہ! بتا دو اپنے ابا جان کو ۔ ہم نہیں آئیں گے۔ عین ٹائم پر بہانہ کر دینا کوئی نہ کوئی۔‘‘ زاہد صاحب نے عمارہ کو کہا تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
’’لیکن کیوں ! میرے سب بہن بھائی اکھٹے ہوں گے عید کا دن ہو گا اور آپ ایسی باتیں کر رہے ہیں۔‘‘
’’تو وہ تمھارا کزن نبیل بھی تو آیا ہوا ہے۔ ہونہہ! دبئی ہی رہتا تو اچھا تھا۔ "
نبیل آج کل عید کی چھٹیوں میں پاکستان آیا ہوا تھا سو زاہد صاحب کا غصہ اور شک عروج پر تھا۔
"دیکھو بھئی! میں نے کہہ دیا ہے۔ ہم نہیں جائیں گے۔ تم جانو تمھارے اماں ابا جانیں۔مجھے سونے دو اب۔‘‘ زاہد صاحب نے حتمی لہجے میں بات ختم کر دی اور کروٹ بدل کر لیٹ گئے۔
’’یہ کس کا نمبر ہے عمارہ!‘‘
جب سے میسج والی بات ہوئی تھی ، زاہد صاحب گھر آتے ہی عمارہ کاموبائل چیک کرتے اور پھر گاہے بگاہے چیک کرتے ہی رہتے۔
’’یہ میری سہیلی ہے نبیلہ۔ کل ہی پارک میں اس سے ملاقات ہوئی ہے۔ یہیں ساتھ والی گلی میں رہتی ہے۔‘‘
عمارہ اپنی دھن میں بتارہی تھی جب زاہد صاحب نے اس کی بات کاٹ دی۔
’’اچھا! تو اب نبیل صاحب کا نمبر نبیلہ کے نام سے سیو کر لیا ہے۔ میں ابھی اس نمبر پر کال کرتا ہوں۔ ‘‘
یہ کہہ کر زاہد صاحب نے نمبر ڈائل کر دیا ۔ تھوڑی دیر بعد ایک زنانہ آواز ابھری۔
’’ہیلو! عمارہ! کیسی ہو۔‘‘
زاہد صاحب نے فون بند کر دیا اور اٹھ کرکمرے میں چلے گئے۔
عمارہ کی بے بسی کی انتہا نہ رہی۔ و ہ بھی پیچھے پیچھے چلی آئی اور کہنے لگی۔ 
’’زاہد! میں آپ کو کیسے یقین دلاؤں نبیل میرے بھائیوں جیسا ہے۔ میری خالہ زاد بہن کا شوہر ہے وہ۔ پھر وہ کتنی بار بتا چکا ہے کہ غلطی سے میسج کر بیٹھا تھا۔‘‘
’’ عمارہ بیگم ! بس اب میرا منہ مت کھلواؤ۔ ہونہہ! اسی سے شادی کر لیتی۔ میری زندگی برباد کرنے کی کیا ضرورت تھی۔‘‘زاہد صاحب تیز لہجے میں کہتے چلے گئے۔
’’میرے اللہ! کتنا گھٹیا الزام لگاتے ہیں مجھ پر۔ ذرا بھی خیال نہیں آتا۔میں نے آج تک دل میں کسی غیر محرم کی محبت نہیں ڈالی۔کیسے یقین دلاؤں ان کو اپنی پاکدامنی کا۔ یا اللہ! میری یہ آزمائش کب ختم ہو گی۔‘‘ عمارہ باتھ روم کی ٹھنڈی دیوار سے سر ٹکائے سوچتی رہی اور آنسوؤں سے اس کا دوپٹہ تر ہو گیا۔ 
وقت گزرتا رہا۔ تین پھول جیسے بچے بھی گھر کی رونق بن گئے۔ لیکن گزرتے ماہ و سال بھی زاہد صاحب کے دل سے شک کے داغ نہ مٹا سکے۔ کوئی فنکشن ہوتا یا فوتگی۔ جہاں بھی نبیل کی آمد کی خبر ملتی یا ہلکی سی توقع بھی ہوتی تو زاہد صاحب نہ خود جاتے نہ عمارہ کو جانے دیتے۔ یہ تو شکر تھا کہ نبیل زیادہ تر جاب کے سلسلے میں دبئی ہوتا تھا۔ اس لیے کام چل جاتا تھا لیکن زاہد صاحب کی اس شکی طبیعت کی وجہ سے عمارہ کے اندر کی کیا حالت تھی۔ یہ وہی جانتی تھی۔
’’ کاش میں پھر سے چھوٹی سی بچی ہو جاؤں۔ نہ کوئی غم نہ دکھ!‘‘ عمارہ نے اپنے تینوں بچوں کو پارک میں کھیلتے دیکھا اور سوچنے لگی۔زاہد صاحب کے شک کی وجہ سے وہ اندر سے بے انتہا دکھی رہتی تھی۔
’’پتہ نہیں کب ان کا شک دور ہو گا۔ نبیل بھائی اتنی بار معذرت کر چکے ہیں۔ لیکن ان کا شک۔۔۔! شک ہی رہے گا۔آہ! کوئی یقین کر سکتا ہے کہ عمارہ پر ۔۔ تین بچوں کی ماں پر اس کا شوہر شک کرتا ہے۔ آہ! کب یقین آئے گا زاہد کو میری پاکدامنی کا۔ شکر ہے امی ابو کو نہیں معلوم ورنہ وہ جیتے جی مر جاتے۔ لیکن کیا میں زندہ ہوں؟ پتہ نہیں۔ آہ! اللہ ہی میر ا ساتھی و نگہبان ہے۔‘‘
’’میں ترجمہ کے ساتھ قرآن اور تفسیر پڑھاتی ہوں۔ آپ بھی کسی دن ضرور آئیں۔‘‘ سامنے والے گھر میں نئے کرایہ دار آئے تھے۔ آج وہی خاتون عمارہ سے ملنے آئیں تو جاتے جاتے کہہ گئیں۔
’’اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد لو۔بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ‘‘ اس دن قرآن والی باجی سے ترجمہ پڑھتے پڑھتے جب یہ آیت نظر سے گزری تو عمارہ ٹھٹھک گئی۔ اسے لگا یہ اسی کو کہا گیا ہے۔فرض نماز تو وہ پابندی سے پڑھتی تھی لیکن اپنے دکھ اور غم کا علاج نماز میں اسے پہلی بار نظر آیا تھا۔

گھرآ کر عمارہ نے سارے کاموں سے فارغ ہو کر جائے نماز بچھائی اور نیت باندھ لی۔ تب نہ جانے کتنے عرصے کی گھٹن آنسوؤں میں نکلنے لگی۔ نماز پڑھ کر ہٹی تو عمارہ کو کافی سکون ملا۔ آج محسوس ہو رہا تھاجیسے وہ اپنے غم میں اکیلی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے سارے دکھ شئیر کر لیے ہیں۔
’’اے وہ لوگو جو ایمان لائے! بہت سے گمان سے بچو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں۔ ‘‘ (سورۃالحجرات)
’’جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی (تہمت لگائی) جو اس میں حقیقت میں تھی ہی نہیں ، تو اللہ اسے (تہمت لگانے والے کو) دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے باز آ جائے (توبہ کر لے)۔‘‘ مسند احمد، 204/7))

موت سے فرار ممکن نہیں

michael jackson death

اس نے امریکہ اور یورپ کے 55 چوٹی کے پلاسٹک سرجنز کی خدمات حاصل کیں یہاں تک کہ 1987ء تک مائیکل جیکسن کی ساری شکل وصورت‘ جلد‘ نقوش اور حرکات و سکنات بدل گئیں۔ سیاہ فام مائیکل جیکسن کی جگہ گورا چٹا اورنسوانی نقوش کا مالک ایک خوبصورت مائیکل جیکسن دنیا کے سامنے آ گیا۔

اس نے 1987ء میں بیڈ کے نام سے اپنی تیسری البم جاری کی‘ یہ گورے مائیکل جیکسن کی پہلی البم تھی‘ یہ البم بھی کامیاب ہوئی اور اس کی تین کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس البم کے بعد اس نے اپنا پہلا سولو ٹور شروع کیا۔ وہ ملکوں ملکوں ‘ شہر شہرگیا ‘ موسیقی کے شو کئے اوران شوز سے کروڑوں ڈالر کمائے۔ یوں اس نے اپنی سیاہ رنگت کو بھی شکست دے دی۔ اس کے بعد ماضی کی باری آئی ‘ مائیکل جیکسن نے اپنے ماضی سے بھاگنا شروع کر دیا‘ اس نے اپنے خاندان سے قطع تعلق کر لیا۔ اس نے اپنے ایڈریسز تبدیل کر لئے‘ اس نے کرائے پر گورے ماں باپ بھی حاصل کر لئے اور اس نے اپنے تمام پرانے دوستوں سے بھی جان چھڑا لی۔ ان تمام اقدامات کے دوران جہاں وہ اکیلا ہوتا چلا گیا وہاں وہ مصنوعی زندگی کے گرداب میں بھی پھنس گیا۔ اس نے خود کو مشہور کرنے کیلئے ایلوس پریسلے کی بیٹی لیزا میری پریسلے سے شادی بھی کر لی۔ 

اس نے یورپ میں اپنے بڑے بڑے مجسمے بھی لگوا دئیے اور اس نے مصنوعی طریقہ تولید کے ذریعے ایک نرس ڈیبی رو سے اپنا پہلا بیٹا پرنس مائیکل بھی پیدا کرا لیا۔ ڈیبی رو کے بطن سے اس کی بیٹی پیرس مائیکل بھی پیدا ہوئی۔اس کی یہ کوشش بھی کامیاب ہوگئی‘ اس نے بڑی حد تک اپنے ماضی سے بھی جان چھڑا لی لہٰذا اب اس کی آخری نفرت یا خواہش کی باری تھی۔ وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہنا چاہتا تھا۔
مائیکل جیکسن طویل عمر پانے کیلئے دلچسپ حرکتیں کرتاتھا‘ مثلاً وہ رات کو آکسیجن ٹینٹ میں سوتا تھا‘ وہ جراثیم‘ وائرس اور بیماریوں کے اثرات سے بچنے کیلئے دستانے پہن کر لوگوں سے ہاتھ ملاتا تھا۔ وہ لوگوں میں جانے سے پہلے منہ پر ماسک چڑھا لیتا تھا۔ وہ مخصوص خوراک کھاتا تھا اور اس نے مستقل طور پر بارہ ڈاکٹر ملازم رکھے ہوئے تھے۔ یہ ڈاکٹر روزانہ اس کے جسم کے ایک ایک حصے کا معائنہ کرتے تھے‘ اس کی خوراک کا روزانہ لیبارٹری ٹیسٹ بھی ہوتا تھا اور اس کا سٹاف اسے روزانہ ورزش بھی کراتا تھا‘ اس نے اپنے لئے فالتو پھیپھڑوں‘ گردوں‘ آنکھوں‘ دل اور جگر کا بندوبست بھی کر رکھا تھا‘ یہ ڈونر تھے جن کے تمام اخراجات وہ اٹھا رہا تھا اور ان ڈونرز نے بوقت ضرورت اپنے اعضاء اسے عطیہ کر دینا تھے چنانچہ اسے یقین تھا وہ ڈیڑھ سو سال تک زندہ رہے گا لیکن پھر 25جون کی رات آئی ‘ اسے سانس لینے میں دشواری پیش آئی‘ اس کے ڈاکٹرز نے ملک بھر کے سینئرڈاکٹرز کو اس کی رہائش گاہ پرجمع کر لیا‘یہ ڈاکٹرز اسے موت سے بچانے کیلئے کوشش کرتے رہے لیکن ناکام ہوئے تو یہ اسے ہسپتال لے گئے

اور وہ شخص جس نے ڈیڑھ سو سال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی‘ جو ننگےپاؤں زمین پر نہیں چلتا تھا‘ جو کسی سے ہاتھ ملانے سے پہلے دستانے چڑھا لیتا تھا‘ جس کے گھر میں روزانہ جراثیم کش ادویات چھڑکی جاتی تھیں اور جس نے 25برس تک کوئی ایسی چیز نہیں کھائی تھی جس سے ڈاکٹروں نے اسے منع کیا تھا۔ وہ شخص 50سال کی عمر میں صرف تیس منٹ میں انتقال کر گیا۔ اس کی روح چٹکی کے دورانیے میں جسم سے پرواز کر گئی۔ مائیکل جیکسن کے انتقال کی خبر گوگل پر دس منٹ میں لاکھوں لوگوں نے پڑھی‘ یہ گوگل کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹریفک ریکارڈ تھا اور اس ہیوی ٹریفک کی وجہ سے گوگل کا سسٹم بیٹھ گیا اور کمپنی کو 25منٹ تک اپنے صارفین سے معذرت کرنا پڑی۔

مائیکل جیکسن کا پوسٹ مارٹم ہوا تو پتہ چلا احتیاط کی وجہ سے اس کا جسم ڈھانچہ بن چکا تھا‘ وہ سر سے گنجا تھا‘ اس کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں‘ اس کے کولہے‘ کندھے‘ پسلیوں اور ٹانگوں پر سوئیوں کے بے تحاشا نشان تھے۔ وہ پلاسٹک سرجری کی وجہ سے ’’پین کلرز‘‘ کا محتاج ہو چکا تھا چنانچہ وہ روزانہ درجنوں انجیکشن لگواتا تھا لیکن یہ انجیکشنز‘ یہ احتیاط اور یہ ڈاکٹرز بھی اسے موت سے نہیں بچا سکے اور وہ ایک دن چپ چاپ اُس جہان شفٹ ہو گیا جس میں ہر زندہ شخص نے پہنچنا ہے اور یوں اس کی آخری خواہش پوری نہ ہو سکی۔ مائیکل جیکسن کی موت ایک اعلان ہے‘ انسان پوری دنیا کو فتح کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے مقدر کو شکست نہیں دے سکتا۔ وہ موت اور اس موت کو لکھنے والے کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ کوئی راک سٹار ہو یا کوئی فرعون دو ٹن مٹی کے بوجھ سے نہیں بچ سکتا۔ وہ قبر کو شکست نہیں دے سکتا لیکن حیرت ہے ہم مائیکل جیکسن کے انجام کے بعد بھی خود کو فولاد کا انسان سمجھ رہے ہیں۔ ہمارا خیال ہے ہم موت کو دھوکہ دے دیں گے‘ ہم ڈیڑھ سو سال تک ضرور زندہ رہیں گے ۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ آخر ہمیں مرنا ہی ہوگا۔ اور اس نہ ختم ہونے والی زندگی کی تیاری کرنی ہوگی۔ 
اس لئے اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوں اور لوگوں کے ساتھ گھل مل کررہو ۔ ان کے دکھ درد کے ساتھی بنو۔ لوگوں کے لئے خوشیوں کا سامان کرو ۔ اللہ تمہارے لئے خوشیاں اور آسانیاں پیدا کرے گا۔کسی کے دل میں خوشی داخل کرنا اللہ کا پسندیدہ عمل ہے۔ غریبوں مسکینوں کی غم گساری کرتے رہو۔ اللہ بری موت سے بچائے گا۔ اور آخرت میں اجر عظیم عطاء کرے گا۔
ویسے بھی موت سے فرار ناممکن ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے
اے آدمی بے شک تجھے اپنے رب کی طرف ضرورلوٹنا ہے۔ (پ 30، الانشقاق6